مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انصاراللہ یمن کے سربراہ سید عبدالملک الحوثی نے یمن سے برطانوی فوج کے انخلاء کی سالگرہ کی مناسبت سے خطاب کرتے ہوئے یمنی عوام کو مبارک باد دی اور کہا کہ یہ دن 128 سالہ طویل برطانوی قبضے کے بعد آیا، جس دوران انگریزوں نے بدترین مظالم ڈھائے۔ برطانوی قبضے میں مدد فراہم کرنے والے خائن تھے جنہوں نے انگریزوں کو سہارا دیا اور ہزاروں افراد کو ان کے لیے بھرتی کیا۔
الحوثی نے کہا کہ برطانیہ اور مغرب کی بالادستی کا دور انسانیت کے لیے سب سے زیادہ دردناک دور تھا، جس میں قوموں کو غلام بنانے کے لیے وحشیانہ طریقے اپنائے گئے تاہم کہ انقلابی عوام نے انگریزوں کے ظلم کے خلاف قیام کیا۔ مغرب نے اسلامی ممالک میں قبضے کے بعد ایسے منصوبے بنائے تاکہ امت مسلمہ ہمیشہ ان کے زیرتسلط رہے۔
انہوں نے کہا کہ مغرب نے تعلیم، میڈیا اور ثقافت پر قبضہ کرکے اسلامی ممالک کو پسماندہ رکھنے کی کوشش کی اور فلسطین پر صہیونیوں کے قبضے کی راہ ہموار کی تاکہ گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جاسکے۔ امریکہ نے برطانیہ کے وارث کے طور پر صہیونی حکومت کو مکمل حمایت فراہم کی۔
الحوثی نے کہا کہ آج بھی امریکہ، برطانیہ اور مغرب کی پشت پناہی سے صہیونی جارحیت جاری ہے۔ اسرائیل جنگ بندی معاہدوں کو مذاق بنا رہا ہے اور امریکہ کی مدد سے فلسطینی عوام کو قدس، غزہ اور مغربی کنارے سے بے دخل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسرائیل امریکہ کی حمایت سے لبنان اور شام کے بڑے حصوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، حتی کہ دمشق کے دروازوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ سب گریٹر اسرائیل کے منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد پورے خطے کو صہیونی تسلط کے تحت لانا ہے۔
الحوثی نے کہا کہ دشمنان اسلام اگلے مرحلے میں آزاد قوموں کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہے ہیں، اس لیے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان کے جرائم اور سازشوں کے مقابلے کے لیے مکمل طور پر تیار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ یمنی عوام اور مسلح افواج نے فلسطینی عوام کی حمایت میں بہترین موقف اختیار کیا ہے اور امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت کے ذریعے عالمی سطح پر منفرد مقام حاصل کیا ہے۔ یمنی عوام جہاد سے دستبردار نہیں ہوں گے اور اپنے موقف پر قائم رہیں گے، کیونکہ صہیونی مجرموں کے سامنے سر جھکانا ذلت اور دنیا و آخرت میں خسارے کے مترادف ہے۔
آپ کا تبصرہ